Thatta Kedona

Culture is a Basic Need

Ambassadors of Thatta Kedona

Bookmark and Share

 


Labels: ,

posted by S A J Shirazi @ 8:57 AM, ,

February 18th 2022 - an important day for the project - Thatta Kedona

Bookmark and Share


Dr SIller, the initiator and long-term supervisor of our project, received the “Governor Award” from the Govenor of Punjab, Chaudhry Mohammad Sarwar. Another award, posthumously for Ruth Pfau, is also a great honor.



In the afternoon, the Friends of the Senta Siller Design Centre organized a reception at the Al-hamra Art Gallery in honor of Dr. Senta Siller including an exhibition of handicrafts from the project, as well as works of art by Dr. Senta Siller.


Although she is known generally as the “Mother of Dolls” but she has worked in many different ways as well in her capacity as a graphic artist, as a businesswoman for children's clothing and toys, as a calligrapher, as the director of an art school.


The exhibition featured not only “Heikus”, translations of Japanese 17-character poems, the shortest type of poems in the world, but also posters from the year 2021, the global pandemic period, in which the work and contacts with Senta Siller continued inspite of the limitations.


The posters conveyed how active she still is! Also interesting were the content of the which included references to Thatta Kedona, CAT and Tanto Mejor and three publications with Pakistani ISBN about SIller's general work, the catalog with Heikus and a compilation, which contains almost 1000 works from different areas from the years 1946 till 2021. Proceeds from the sale of all items go directly to the women's projects.

On DW

Labels: , ,

posted by S A J Shirazi @ 3:42 PM, ,

پاکستانی ’گڑیاؤں کا گاؤں‘ جو ایک جرمن ناول کا موضوع بن گیا

Bookmark and Share

جرمن مصنف ہانس زاخس نے پاکستان میں واقع ایک گاؤں کے بارے میں ’داس ڈورف دیر پُپن‘ یعنی ’گڑیاؤں کے گاؤں‘ کے عنوان سے ایک تِھرلر ناول لکھا ہے۔ زاخس دو عشرے قبل ’ٹھٹہ غلام کا دھِیروکا‘ گاؤں میں بطور رضاکار کام کرنے گئے تھے، جہاں مقامی خواتین ہاتھوں سے گڑیا بناتی ہیں۔ اس ناول سے ملنے والی آمدن کا بڑا حصہ وہ گاؤں کی ترقی کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھیے عرفان آفتاب کی خصوصی رپورٹ

Click here to watch the video

Labels: ,

posted by S A J Shirazi @ 10:00 AM, ,

Catalogue of Heiku Compilation in Pakistan

Bookmark and Share

The publications by Senta Siller depicted on the AFA-CAT-TM poster (e.g. Catalogue of Heiku compilation) have a Pakistani ISBN.


To get a copy, please contact

Muhammad Zeeshan

0333-4609840, 0320-4151825

Waqas Mazhar

0323-8522360

RAS Publishers

Lahore - Pakistan

Proceeds from sale of these publications go to women's projects initiated by Senta Siller, Tanto Mejor, Saboya.

Labels: , , , ,

posted by S A J Shirazi @ 10:35 AM, ,

Dr Senta Siller in the Village

Bookmark and Share

On her visit to Pakistan to receive Governor Award, Dr Senta Siller was in the village on February 20, 2022. Her visit brought back a lot of memories. Some of the glimpses from her day long visit are here: 

Corner Stone Ceremony



Senta SIller Design Centre (also in Dawn)




Reception in the Presidents House



PalmTree on Holy Place


posted by S A J Shirazi @ 9:00 AM, ,

ڈاکٹر سینتا سلّر پاکستان میں

Bookmark and Share


ضلع اوکاڑہ کا گاؤں ٹھٹہ غلام کا دھِیرو کا اپنی رنگا رنگ گڑیوں اور درجنوں دیگر دستکاری مصنوعات کی وجہ سے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ڈالز ولیج یا گڑیوں کا گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ٹھٹہ کھڈونا کے نام سے مشہور دستکاری برانڈ شروع کرنے والی جرمن مصورہ اور ڈیزائنر ڈاکٹر سینتا سلّر (Senta Siller) ہیں، جو پہلی بار 1990ء میں اس گاؤں میں اپنے ایک پاکستانی شاگرد امجد علی کی دعوت پر آئی تھیں۔



اسی گاؤں میں پیدا ہونے والا امجد علی جرمن دارالحکومت برلن میں جس ادارے میں پڑھ رہا تھا، سینتا اُسی ادارے میں اُستاد تھیں۔ گاؤں کی خواتین کو اُن کی دستکاری مصنوعات کی بدولت اضافی آمدنی دِلوانے کے خواب کو سینتا سلّر نے عملی شکل دی اور مسلسل چَودہ برس گاؤں میں کئی کئی مہینے قیام کرتے ہوئے خواتین کی تربیت کی۔ ساتھ ساتھ اُنہوں نے گاؤں میں تعلیم اور صحت و صفائی کے بھی کئی منصوبے شروع کیے۔

86 سالہ سینتا سلّر کی اِنہی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے جمعہ اٹھارہ فروری کو گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں گورنر ایوارڈ سے نوازا گیا۔


بعد ازاں اُسی روز الحمرا آرٹ کونسل میں ڈاکٹر سلّر کے ساتھ ایک شام منائی گئی، جس میں اُن کے درجنوں جرمن اور پاکستانی دوست شریک ہوئے۔


بیس فروری اتوار کو ڈاکٹر سینتا سلّر اور اُن کے شوہر ڈاکٹر ناربرٹ پِنچ ( Norbert Pintch ) ایک تاریخی دورے پر گاؤں ٹھٹہ غلام کا پہنچے، جہاں گاؤں کی خواتین کے ساتھ ساتھ ضلع اوکاڑہ کی کئی معزز شخصیات نے بھی اُن کا والہانہ استقبال کیا۔ گاؤں میں جب وہ اپنی پرانی ساتھی خواتین سے ملیں تو کئی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔


برسوں بعد ہونے والی اس ملاقات کے دوران سینتا سِلّر کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ اس موقع پر ایک مجوزہ سینتا سلّر اسکول آف ہوم اکنامکس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ تختی کی نقاب کُشائی خود سینتا سلّر نے کی۔ ایک مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سلّر نے کہا کہ اُنہیں ایک بار پھر اس گاؤں میں آنا ایک خواب کی طرح لگ رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس گاؤں میں اپنے طویل قیام کی وجہ سے یہ گاؤں کچھ اس طرح سے اُن کے دل میں بس گیا ہے کہ وہ جرمنی میں بھی اکثر اپنے خوابوں میں خود کو اس گاؤں میں چلتے پھِرتے دیکھتی ہیں۔


 تقریب سے اُن کے پرانے شاگرد اور آج کل گاؤں کی مقامی تنظیم انجمنِ فلاحِ عامہ کے صدر امجد علی کے ساتھ ساتھ اوکاڑہ پیشنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن (OPWA)کے رُوحِ رواں شیخ عبدالغفور اور معروف ادبی و سماجی شخصیت محمد اسلم طاہر القادری ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا اور ڈاکٹر سِلّر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس دوران گاؤں کو جانے والی شکستہ سڑک کی تعمیرِ نو کی ضرورت اور گاؤں میں صاف پانی کے منصوبے کے لیے وسائل کی فراہمی کے مسئلے پر بھی زور دیا گیا۔ تقریب کے مہمانوں میں ایگری ٹورازم کارپوریشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر طارق تنویر اور معروف زرعی ماہر و محقق ساجد سِندھو بھی شامل تھے۔


بعد ازاں جرمن مہمانوں نے دستکاری مرکز کا دورہ کیا، جسے سن 2016ء سے سینتا سِلّر ڈیزائن سینٹر کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس موقع پر گاؤں کی خواتین اور علاقہ معززین کی جانب سے اپنے ان دونوں جرمن مہمانوں کو مختلف قسم کے تحائف بھی دیے گئے۔

Follow on Twitter, Like on Facebook 

Labels: ,

posted by S A J Shirazi @ 11:18 AM, ,

Dr Norbert Pintsch in Lahore School

Bookmark and Share


Labels:

posted by S A J Shirazi @ 9:00 AM, ,

Governor Award Conferred Upon Dr Senta Siller

Bookmark and Share

In recognition of her extraordinary work is the fields of art, design, preservation of culture and poverty alleviation, Governor Punjab Muhammad Sarwar Chaudhry conferred the Governor Award on Dr Senta Siller.


According to the details, Dr Senta Siller was honoured with the award during a special investiture ceremony held at Governor House in Lahore on 18 February 2022.


Later in the afternoon, Friends of Senta Siller Design Centre arranged a reception in Alhamra to celebrate and acknowledge the work of Dr Senta Siller that spans over three decades.


Earlier, a day before, Senta Siller along with Dr Norbert Pintsch arrived in Pakistan to receive the award. She will be here till 22 February 2022.




View the video on Twitter, also read in the News 

Labels: , ,

posted by S A J Shirazi @ 11:40 AM, ,

A Corona year poster 2021 for friends of Dolls

Bookmark and Share


Thatta Kedona 

Strong linkage between AFA and local like minded concerns is a critical tool to tackle the key challenges in rural Punjab. OPWA’s experience and expertise will go a long way in creating awareness about the prevention of diseases and improving the lives of people in the area. 

www.thattakedona.blogspot.com

Labels: , , ,

posted by S A J Shirazi @ 8:59 AM, ,

Prof. Dr Norbert Pintsch from Germany speaks about Thatta Kedona

Bookmark and Share

Labels: ,

posted by S A J Shirazi @ 8:54 AM, ,


Popular Posts

How I Work From Home and Make Extra Money?

Why Everyone Blogs and Why You Too Should

Business {Blogging} Proposal

Spencer's Pashmina

Subscribe by Email

Blog Roll